حدیث نمبر: 13223
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عِنْدَ ذِكْرِ أَهْلِ النَّارِ: ”كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ِ جہنم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، متکبر، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا یہ سب جہنمی لوگ ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَھْلِ الْجَنَّۃِ؟ اَلضُّعَفَائُ الْمَظْلُوْمُوْنَ، اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ؟کُلُّ شَدِیْدٍ جَعْظَرِيٍّ)) … کیا میں تمہارے لیے جنت والوں کی نشاندہی نہ کر دوں؟ وہ تو کمزور اور مظلوم لوگ ہیں۔ کیا میں تمھیں جہنم والوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ وہ سخت اور مغرور لوگ ہیں۔ (احمد: ۲/ ۵۰۸، صحیحہ:۹۳۲)
ان احادیث میں بد خلقی و بدمزاجی، غرور وگھمنڈ، بڑائی و تکبر، شہرت و ناموری، مال و دولت اور کنجوسی و بخیلی کی مذمت کی گئی ہے اور ان صفات کے حاملین کو دوزخی کہا گیا ہے، جبکہ کمزور، غریب اور گوشۂ خمول میں رہنے والے لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جن کو معاشرے میں کوئی امتیازی مقام حاصل نہیں ہوتا، وہ مغلوب اور بے بس ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان کو وقعت نہیں دیتا،لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز و مکرم ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13223
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم مطولا: 2/ 499 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6580»