الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
أَهْلُ النَّارِ وَصِفَاتُهُمْ باب: جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَةُ ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخُو مُطَرِّفٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي عُقْبَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ“ فَذَكَرَ أَهْلَ النَّارِ وَعَدَّ مِنْهُمُ الضَّعِيفَ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْتَغُونَ أَهْلاً وَلَا مَالًا قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِمُطَرِّفٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَمِنَ الْمَوَالِي هُوَ أَمْ مِنَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: هُوَ التَّابِعَةُ تَكُونُ لِلرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْ خَدَمِهِ سَفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍسیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوران ِ خطبہ یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دوں جو تم نہیں جانتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ِ جہنم کا تذکرہ کیا اور ان میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر کیا جو کمزور ہوتے ہیں اور عقل سے عاری ہیں (یعنی جو آدمی ان کو پناہ دیتا ہے، اس سے خیانت کرتے ہیں اور اس کی حرمت تک کا خیال نہیں رکھتے) ، یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے پیرو ہو کر رہتے ہیں اور وہ اہل و مال کے متلاشی نہیں ہوتے۔ عقبہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مطرف (حدیث کے راوی) سے کہا اے ابو عبداللہ! یہ لوگ غلاموں میں سے ہیں یا عربوں میں سے؟ انھوں نے کہا: وہ آدمی کے تابع ہوتے ہیں، لیکن اس کی لونڈیوں سے زنا کرتے ہیں۔