الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
التَّحْذِيرُ مِنَ النَّارِ باب: جہنم سے ڈرانے کا بیان
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اتَّقُوا النَّارَ“ قَالَ شَاحَ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ”اتَّقُوا النَّارَ“ وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ قَالَ قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ”اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشَقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ“سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچو اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے سے ناگواری کا اظہار کیا، ہمیں یوں محسوس ہوا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچنے کے اسباب پیدا کرو۔ ساتھ ہی آپ نے اپنے چہرے سے ناگواری کا اظہار فرمایا، دو تین مرتبہ ایسے ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو اور اگر کسی کو وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے ہی سہی۔