الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
خُرُوجُ عُنُقِ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَوْلُ جَهَنَّمَ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ باب: قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
حدیث نمبر: 13216
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُلْقَى فِي النَّارِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ أَوْ رِجْلَهُ عَلَيْهَا وَتَقُولُ قَطْ قَطْ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام جہنمیوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا، لیکن جہنم کہے گی : کیا مزید افراد ہیں، بالآخرجب اللہ تعالیٰ اپنا قدم یا ٹانگ اس میں رکھے گا تو وہ کہے گی: بس بس۔
وضاحت:
فوائد: … قدم، اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، جیسے اس کی شان کو لائق ہے۔ اس حدیث میں جو چیز بیان کی گئی ہے، اس کو حقیقت پر ہی محمول کیا جائے گا، خالق اور مخلوق کا تعلق اور ہے اور مخلوق کا مخلوق کے ساتھ تعلق اور ہے۔