الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
خُرُوجُ عُنُقِ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَوْلُ جَهَنَّمَ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ باب: قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
حدیث نمبر: 13214
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يَبْصُرُ بِهِمَا وَآذَانٌ يَسْمَعُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ فَيَقُولُ إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَبِكُلِّ مَنِ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَالْمُصَوِّرِينَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی، اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جن سے وہ دیکھتی ہوگی، اس کے کان ہوں گے جن سے وہ سنتی ہو گی اور اس کی ایک زبان بھی ہوگی، جس سے وہ بولتی ہو گی، وہ کہے گی: مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے: ایک وہ جو ظالم اور سرکش ہو ، دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کے معبود ہونے کا دعویٰ کرے اور تیسرا تصاویر بنانے والا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث میں لفظ عُنُقٌ آیا ہے، اس کا معنی اگرچہ لپٹ بھی ہے لیکن معروف معنی گردن ہے۔ پھر اس کے ساتھ آنکھوں، کانوں اور زبان کا ذکر بھی ہے، جو گردن کے معنی کی تائید کرتا ہے۔ باقی اس گردن کی کیفیت اور جسمانی ساخت کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔ (عبداللہ رفیق)