حدیث نمبر: 13205
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَنَفِّسْنِي فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِ جَهَنَّمَ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم نے اپنے ربّ سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اے میرے رب! میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھا رہا ہے، لہذا مجھے سانس لینے کی اجازت دو، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر ایک سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں، یہ جو تم شدید ٹھنڈک محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی سخت سردی کا اثر ہوتا ہے اور جو تم شدید گرمی محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی گرمی کا یا بھاپ کا اثر ہوتاہے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کے ظاہری الفاظ سے جو بات سمجھ آ رہی ہے، اسی کو برحق سمجھا جائے کہ گرمی اور سردی کی اصل وجہ جہنم ہے اور اس کی حقیقت کو اُس ذات کے سپرد کر دیا جائے، جو اپنی مخلوق کے حقائق کو جانتی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا میں پائی جانے والی آگ، جہنم کی آگ کی حرارت کا سترہواں حصہ ہے، لیکن اس میں جب کوئی انسان گر جاتا ہے تو وہ دو تین منٹ کے اندر اندر جل کر ختم ہو جاتا ہے، لیکن جہنم کی آگ میں بندہ ختم نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13205
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3260، ومسلم: 617، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7708»