الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
التَّعَوذُ مِنَ النَّارِ وَسُوَّالُ اللَّهِ الْجَنَّةَ وَأَنَّهُمَا أَقْرَبُ إِلَى الْإِنْسَانَ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ باب: جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
حدیث نمبر: 13201
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے زیادہ تمہارے قریب ہے اور جہنم بھی اسی طرح ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بس موت کے قریب ہونے کی دیر ہے، سب کچھ واضح ہو جائے گا اور جنت یا جہنم کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ نَسْأَلُ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ وَنَعُوْذُ بِہٖ مِنَ النَّارِ۔