الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
التَّعَوذُ مِنَ النَّارِ وَسُوَّالُ اللَّهِ الْجَنَّةَ وَأَنَّهُمَا أَقْرَبُ إِلَى الْإِنْسَانَ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ باب: جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
حدیث نمبر: 13200
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنِّي وَلَا يَسْأَلُ الْجَنَّةَ إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ إِيَّايَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اس کو مجھ سے دور رکھنا، اسی طرح جوآدمی اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہے، توجنت کہتی ہے: اے اللہ! اس بندے کو میرے اندر داخل کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کرم نوازی ہے تو ہمیں بھی باشعور رہنا چاہیے اور کثرت سے جنت کا سوال کرنا چاہیے اور جہنم سے پناہ مانگنی چاہیے۔