الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي حُكْمِ الْإِقْرَارِ بِالشَّهَادَتَيْنِ وَ أَنَّهُمَا تَعْصِمَانِ قَائِلَهُمَا مِنَ الْقَتْلِ وَ بِهِمَا يَكُونُ مُسْلِمًا وَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ باب: دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَيْنِ فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أُقَاتِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَقْتُلُهُ أَمْ أَدَعُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ))سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک کافر آدمی سے میرا ٹاکرا ہو جائے، وہ مجھ سے لڑ پڑے، ہم دونوں ایک دوسرے کو ایک ایک ضرب لگائیں، لیکن وہ میرے ہاتھ کو تلوار سے ایسی ضرب لگائے کہ اس کو کاٹ دے اور پھر مجھ سے پناہ طلب کرنے کے لیے ایک درخت کی اوٹ میں جا کر یہ کہنے لگ جائے: میں اللہ کے لیے مسلمان ہو گیا ہوں، اے اللہ کے رسول! اب کیا میں اس سے لڑائی کروں؟“ ایک روایت میں ہے: ”یہ بات کہنے کے بعد کیا میں اس کو قتل کر دوں یا چھوڑ دوں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کو قتل نہ کر، اگر تو نے اس کو قتل کر دیا تو اس قتل سے پہلے اسلام والی جو تیری حالت تھی، وہ اس میں آ جائے گا اور اس قبولیتِ اسلام والی بات سے پہلے جو اس کی حالت تھی، تو اس میں چلا جائے گا۔“