حدیث نمبر: 13198
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُوْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً فَيُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک جہنمی کو لایا جائے گا، جو دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، اسے جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا اور پھر اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی اچھائی دیکھی ہے؟ کیا کبھی تو نے کوئی نعمت استعمال کی؟ وہ کہے گا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے میرے ربّ! اسی طرح ایک جنتی آدمی کو بلایا جائے گا، جو دنیا میں سب سے زیادہ دکھوں اور شدتوں والا تھا، اسے جنت میں ایک چکر دیا جائے گا، اس کے بعد اس سے پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی ہے؟ کیا کبھی تجھے کوئی پریشانی آئی ہے؟ وہ کہے گا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے میرے رب! نہ مجھے کوئی تکلیف آئی ہے اور نہ کبھی کوئی پریشانی دیکھی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ موجودہ حالات کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے، ماضی کو بھول جاتاہے، وہ جیسا بھی ہو، یہی معاملہ اہل جنت اور اہل جہنم کا ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13198
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2807 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13143»