حدیث نمبر: 13195
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ قَالَ: انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُّ لِأَهْلِهَا فِيهَا فَجَاءَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا فَرَجَعَ إِلَيْهِ قَالَ: وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَحُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُّ لِأَهْلِهَا فِيهَا قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهَا وَإِذَا هِيَ قَدْ حُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ قَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ قَالَ: اذْهَبْ إِلَى النَّارِ فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُّ لِأَهْلِهَا فِيهَا فَإِذَا هِيَ تَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَرَجَعَ قَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَسْمَعَ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا اور اس سے کہا: جنت کو اور اس میں اہل جنت کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھو، انھوں نے جنت میں آکر اسے دیکھا اور وہاں اللہ تعالیٰ نے اہل ِ جنت کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے، اسے بھی دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس آکر کہا: تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں تو جو بھی سنے گا، وہ اس میں داخل ہو گا۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جنت کے ارد گرد ناپسندیدہ کاموں کی باڑ لگا دی گئی، اور ان کو دوبارہ حکم دیا کہ اب جا کر جنت کو دیکھواور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں، جبرائیل علیہ السلام جنت کی طرف گئے اور اس کے ارد گرد انسانوں کے ناپسندیدہ کاموں کی باڑ لگی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس جا کر کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے تو اندیشہ ہے کہ ایک آدمی بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ جاؤ اور جہنم اور اس میں اہل جہنم کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھ کر آؤ، انہوں نے جا کر دیکھا کہ جہنم کے بعض حصے بعض حصوں پر چڑھ رہے ہیں، وہ واپس چلے گئے اور جا کر کہا: تیری عزت کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ جو کوئی بھی ا س جہنم کے بارے میں سنے گا، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جہنم کے ارد گرد شہوات یعنی انسانوں کے پسندیدہ کاموں کی باڑ لگا دی گئی، جبرائیل علیہ السلام نے ان کو دیکھ کر کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے تو لگتا ہے کہ کوئی آدمی بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔

وضاحت:
فوائد: … جنت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس میں ہر قسم کا آرام، راحت اور آسائش موجود ہے۔ تاہم اس کے ارد گرد ایسے مشکل کاموں کی باڑ لگا دی گئی ہے، جن پر عمل کرنا عام طور پر انسان مشکل سمجھتے ہیں، اس کے برعکس جہنم عذاب کا مقام ہے، جہاں پر دکھ، تکلیف اور سزائیں ہی سزائیں ہیں، مگر جہنم کے اردگرد ایسے پر کشش کاموں کی باڑہے، جنہیں سب لوگ خوشی سے کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جہنم میں جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13195
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4744، والترمذي: 2560، والنسائي: 7/ 3 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8379»