حدیث نمبر: 13192
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”افْتَخَرَتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ: يَا رَبِّ يَدْخُلُنِي الْجَبَابِرَةُ وَالْمُتَكَبِّرُونَ وَالْمُلُوكُ وَالْأَشْرَافُ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: أَيْ رَبِّ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْفُقَرَاءُ وَالْمَسَاكِينُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكَ مَنْ أَشَاءُ وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ وَلِكُلِّ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا فَيُلْقَى فِي النَّارِ أَهْلُهَا فَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ قَالَ: وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ وَيُلْقَى فِيهَا فَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَأْتِيَهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتُزْوَى فَتَقُولُ: قَدِي قَدِي وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَيَبْقَى فِيهَا أَهْلُهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا يَشَاءُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت اور جہنم نے ایک دوسرے پر برتری کا اظہار کیا، جہنم نے کہا: اے میرے ربّ! ! میرے اندر ظالم ، جابر، متکبر ، حکمران اور سردار قسم کے لوگ داخل ہوں گے، اور جنت نے کہا: اے میرے ربّ ! میرے اندر کمزور ، فقیر اور مسکین قسم کے لو گ داخل ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے جہنم سے کہا: تو میرا عذاب ہے، میں جن لوگوں کو عذاب سے دوچار کرنا چاہوں گا، تجھے ان پر مسلط کروں گا، اور اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، جو ہر چیز سے وسیع ہے، اور تم دونوں کو بھر دیاجائے گا، اہل جہنم کو جہنم میں ڈالا جائے گا، لیکن جہنم مزید افراد کا مطالبہ کرے گی، پھر لوگوں کو اس میں ڈالا جائے گے، لیکن یہی کہے گی کیا مزید ہیں، پھر لوگوں کو اس میں ڈالا جائے گا، لیکن وہ کہے گی کہ کیا مزید ہیں (ابھی تک گنجائش باقی ہے)، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ سکڑ جائے گی اور اس کے کنارے ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی: بس بس۔ رہا مسئلہ جنت کا تو اس میں مزید افراد کی گنجائش بچ جائے گی، اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جتنی چاہے گا، نئی مخلوق پیدا کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … (۱) اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور وہ آپس میں اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوں گی۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ دنیوی طور پر جو لوگ کمزور ہیں وہ جنت میں جائیں گے اور ظالم،جابر، متکبر قسم کے لوگ جہنم کے حق دار ہوں گے۔
(۳) نیز معلوم ہوا کہ جنت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جن بندوں پر رحم کرنا چاہے گا ان کو جنت میں داخل کرے گا۔
ـ(۴)اور جہنم اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اللہ تعالیٰ جن بندوں کو عذاب دینا چاہے گا انہیںجہنم میں داخل کرے گا۔
(۵) یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت اور جہنم میں کوئی جگہ خالی نہیں رہنے دی جائے گی دونوں کو اچھی طرح بھرا جائے گا۔
(۶) نیز معلوم ہوا کہ جب اہل جنت جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ باقی جنت کو بھرنے کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا۔
(۷) اسی طرح جب جہنم میں اہل جہنم کو ڈالا جائے گا تو جہنم مزید آدمیوں کا مطالبہ کر ے گی۔ مزید لوگ اس میں ڈالے جائیں گے وہ مزید کا مطالبہ کرے گی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم جہنم کے اوپر رکھ دے گا تو وہ بھر جائے گی اور کہے گی کہ اب بس … بس … یہی کافی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13192
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4849، 7449، ومسلم: 2846 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11115»