حدیث نمبر: 13190
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا لَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ وَأَمَّا أُنَاسٌ يُرِيدُ اللَّهُ بِهِمُ الرَّحْمَةَ فَيُمِيتُهُمْ فِي النَّارِ فَيَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الشُّفَعَاءُ فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ أَنْصَارَهُ فَيَبُثُّهُمْ أَوْ قَالَ فَيَنْبُتُونَ عَلَى نَهْرِ الْحَيَاءِ أَوْ قَالَ الْحَيَوَانِ أَوْ قَالَ الْحَيَاةِ أَوْ قَالَ نَهْرِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ“ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَا تَرَوْنَ الشَّجَرَةَ تَكُونُ خَضْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ صَفْرَاءَ أَوْ قَالَ تَكُونُ صَفْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ خَضْرَاءَ“ قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ كَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَادِيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اہل جہنم، جنہوں نے جہنم میں ہی رہنا ہو گا، وہ وہاں نہ مریں گے اور نہ جی سکیں گے، اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر رحم کرنا چاہتا ہو گا، وہ انہیں جہنم میں موت دے دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کے پاس پہنچیں گے اوران کے مدد گار ان کو لے جائیں گے اور ان کو نَہْرُ الْحَیَاءِ یا نَھْرُ الْحَیَوَانِ یا نَھْرُ الْحَیَاۃِ یا نَہْرُ الْجَنَّۃِ میں ڈال دیں گے اور اس میں وہ اس طرح اگیں گے، جیسے جیسے سیلاب کی جھاگ میں دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں درخت سبز ہوتے ہیں پھر زرد ہو جاتے ہیں، یا وہ زرد ہوتے ہیں اور سبز ہو جاتے ہیں۔ یہ سن کر صحابہ نے ایک دوسرے سے کہا: ایسے لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دیہات میں رہتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ـ(۱) اس فصل میں اہل جنت اور اہل جہنم کی بعض صفات بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق جو لوگ دنیا میں کمزور ہیں، لوگ جنہیں کم زور، حقیر یا گھٹیا سمجھتے ہیں۔ اور جنہوں نے سر پر بالوں کی لٹیں رکھی ہوئی ہیں۔ جو خیال رکھنے کے باوجود بکھر جاتے ہیں۔ در حقیقت یہ لوگ دین دار ہیں۔ اور جنت میں جائیں گے۔ ان کے بالمقابل جو لوگ تند مزاج، بد اخلاق، مال کے حریص اور بخیل ہیں اور متکبرانہ مزاج ہونے کی وجہ سے لوگوں سے آگے آگے چلنا پسند کرتے ہیں ایسے لوگوں کا انجام جہنم ہے۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جام ِ شہادت نوش کرنے والے، اور وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے اور اپنے آقاؤں کے حقوق کو صحیح طو رپر بجا لانے والے اور وہ غریب جو دوسروں کے سامنے اپنی احتیاج کے اظہار اور دست سوال دراز کرنے سے اجتناب کرنے والے یہ تینوں قسم کے لوگ سب سے پہلے جنت میں جائیں گے۔
(۳) او رلوگوں پر زبردستی حاکم بننے والے اور غریب ہونے کے باوجود متکبرانہ مزاج رکھنے والے لوگ سب سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔
(۴) اس فصل سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل جہنم کی حالت نہیں تو زندوں کی سی ہوگی۔اور نہیں مردوں کی سی۔ ان کی زندگی موت سے اور موت زندگی سے بد تر ہوگی۔
(۵) اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر کرم کرنا چاہے گا انہیں موت سے دو چار کر دے گا پھر سفارش کرنے والے لوگ جا کران کوجہنم سے باہر نکال لائیں گے۔
(۶) نیز فصل کی آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو اپنی بات سمجھانے کے لیے مثالوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13190
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 185 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11029»