الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مَا جَاءَ فِي أَهْلِهِمَا باب: جنت اور جہنم کا تذکرہ¤جنت اور جہنم والوں کا بیان
حدیث نمبر: 13188
وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشَمٍ الْمُدْلِجِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ ”يَا سُرَاقَةُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ“ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”أَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: سراقہ ! کیا میں تم کو بتلا نہ دوں کہ کون لوگ جتنی ہیں اور کون لوگ جہنمی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ضرور، اے اللہ کے رسول !آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بد اخلاق ، بد مزاج اور متکبر آدمی جہنمی ہے اور جو لوگ دنیوی لحاظ سے کمزور اور مغلوب ہوں، وہ جنتی ہیں۔