الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
الصِّرَاطُ وَشَفَاعَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَتَحَتُنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ عَلَى عِبَادِهِ الْمُوَحِدِينَ باب: پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُضْرَبُ جَسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ“ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَبِهَا كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ“ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى فَتُخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمُ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کے اوپر ایک پل رکھا جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے میں اس پل کے اوپر گزر کر اسے پار کروں گا، اس دن رسولوں کی پکار بھی یہ ہو گی: اے اللہ! محفوظ رکھنا، سلامت رکھنا۔ اس پل پر سعدان کے کانٹوں کی طرح خم دار سلاخیں ہوں گی، کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے، لیکن ان کی بڑی جسامت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، لوگ اپنے اپنے اعمال کے حساب سے اچک لیے جائیں گے، کوئی تو یوں ہی ہلاک ہو جائے گا اور کسی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہلاک کیا جائے گا۔
(۲) اس باب سے صراط کا اثبات بھی معلوم ہوا۔
(۳) نیز معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اللہ کے رسول، انبیاء، شہداء، ملائکہ اور عام اہل ایمان گناہ گار جہنمیوں کے حق میں سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ان کو جہنم سے باہر نکال لیں گے۔ یہاں تک کہ اگر کسی کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہوا تو ان کو بھی جہنم سے نکال لیا جائے گا۔
(۴) ان کو آگ میں ان کے اعمال کے حساب سے جلایا جا چکاہوگا یعنی کسی کو قدموں تک کسی کو نصف پنڈلیوں تک، کسی کو کمر تک، کسی کو گردن تک۔
(۵) نیز یہ معلوم ہوا کہ انسانی چہرہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت ہی معززو مکرم ہے۔ جہنم کی آگ ان کے چہروں کو نہیںجلائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چہرہ اپنے سامنے جھکانے کے لیے پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کسی کو سزا دینا مقصود ہوتو چہرے پر مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
(۶) گناہ گار لوگ جہنم سے باہر آکر ماء الحیات سے غسل کریں گے اور وہ بالکل صاف ہوجائیں گے اور اس طرح نرم و نازک ہوں گے جیسے سیلاب کی جھاگ میں اگنے والے پودے نرم و نازک ہوتے ہیں۔
(۷) ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک کر ان کے آپس میں ایک دوسرے پر کیے ہوئے مظالم کا حساب چکا کر ظالموں کی داد رسی کی جائے گی۔
(۸) معلوم ہوتا ہے کہ یہ پل، جہنم کے اوپر والے پل صراط سے الگ پل ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۹) یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت میں اہل ایمان اپنی منزلوں کو یوں جائیں گے گویا ان کو وہ راستہ پہلے سے معلوم ہے۔
(۱۰) صراط کے اوپر سے گزرنا انتہائی کٹھن مرحلہ ہے۔ اس موقع پر اللہ کے رسول اور انبیاء بھی سلامتی کی دعائیں کر رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس رو زہمارے حال پر خصوصی رحم فرمائے۔ آمین!