الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
الصِّرَاطُ وَشَفَاعَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَتَحَتُنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ عَلَى عِبَادِهِ الْمُوَحِدِينَ باب: پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سُلَيْمَانَ الْمِصْرِيَّ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ صَهْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُحْمَلُ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَتَقَادَعُ بِهِمْ جَنْبَةُ الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ قَالَ فَيُنْجِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ قَالَ ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ أَنْ يَشْفَعُوا فَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ“ وَزَادَ عَفَّانُ مَرَّةً فَقَالَ أَيْضًا ”وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً مِنْ إِيمَانٍ“ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ مِثْلَهُسیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کو پل صراط پر چلایا جائے گا، پل کے کنارے لوگوں کو اس طرح جہنم میں ڈالتے جائیں گے، جیسے پتنگے آگ میں تیزی سے اور پے در پے گرتے ہیں، بہرحال اللہ تعالیٰ جن بندوں کے بارے میں چاہے گا، ان کو نجات دلائے گا، اس کے بعد فرشتوں، نبیوں اور شہیدوں کو اجازت دی جائے گی کہ وہ لوگوں کے بارے میں سفارش کریں تو وہ سفارش کرتے جائیں گے اور ان کو جہنم سے نکالتے جائیں گے، وہ لوگوں کے حق میں سفارش کرتے جائیں گے اور ان کو جہنم سے نکالتے جائیں گے اور وہ سفارش کرتے جائیں گے اور جن کے دلوں میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا، ان کو جہنم سے نکالتے جائیں گے۔