الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
الصِّرَاطُ وَشَفَاعَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَتَحَتُنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ عَلَى عِبَادِهِ الْمُوَحِدِينَ باب: پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13180
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ أَيْنَ النَّاسُ قَالَ ”إِنَّ هَذَا الشَّيْءَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي قَبْلَكِ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! جس دن زمین اور آسمان کو تبدیل کیا جائے گا، اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے میری امت میں سے کسی نے اس کے متعلق دریافت نہیں کیا، اس وقت لوگ پل صراط پر ہوں گے۔