حدیث نمبر: 13176
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ فِي صَعِيدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا بَدَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ مَثَّلَ لِكُلِّ قَوْمٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فَيَتَّبِعُونَهُمْ حَتَّى يُقَحِّمُونَهُمُ النَّارَ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْنُ عَلَى مَكَانٍ رَفِيعٍ فَيَقُولُ مَنْ أَنْتُمْ فَنَقُولُ نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَقُولُ وَهَلْ تَعْرِفُونَهُ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ كَيْفَ تَعْرِفُونَهُ وَلَمْ تَرَوْهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ إِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ فَيَتَجَلَّى لَنَا ضَاحِكًا فَيَقُولُ أَبْشِرُوا أَيُّهَا الْمُسْلِمُونَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهُ فِي النَّارِ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام امتوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا، جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوگا کہ وہ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلے کرے توہر قوم جس جس کی پوجا کیا کرتی تھی، اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس کی صورت پیش کرے گا، وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں چلے جائیں گے، جبکہ ہم ایک بلند جگہ پر ہوں گے، ہمارا ربّ ہمارے پاس آکر کہے گا: تم کون لوگ ہو؟ ہم عرض کریں گے: ہم مسلمان ہیں، وہ پوچھے گا: تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟ ہم کہیں گے: ہم اپنے ربّ کا انتظار کر رہے ہیں، وہ پوچھے گا: کیا تم اسے دیکھ کر پہنچان جاؤ گے؟ ہم کہیں گے: جی ہاں، وہ پوچھے گا: تم نے تو اسے دیکھا ہی نہیں، پس تم اسے کیسے پہچانو گے؟ ہم کہیں گے: بس ہم اسے پہچان لیں گے، کیونکہ وہ بے مثل ہیں، اس جیسا کوئی دوسرا ہے ہی نہیں۔ تب اللہ تعالیٰ مسکراتے ہوئے ان کے سامنے ظہور فرمائے گا اور کہے گا: مسلمانو! مبارک ہو، میں نے تمہارے ہر ہر فرد کے بدلے ایک یہودی یا عیسائی کو جہنم میں پہنچادیا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13176
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «قوله: لَيْسَ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهٗ فِيْ النَّارِ يَهُوْدِيًّا اَوْ نَصْرَانِيًّا صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وجھالة عمارة القرشي، أخرجه ابن خزيمة في التوحيد : ص 236 ، والدارقطني في الصفات : 34 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19888»