حدیث نمبر: 13175
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُعْطَى عَلَيْهَا فِي الدُّنْيَا وَيُثَابُ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطِيهِ حَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى فِي الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی مومن پر ایک نیکی کے سلسلہ میں بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ مومن کو دنیا میں نیکی کا عوض بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں ثواب بھی دیا جاتا ہے، رہا مسئلہ کافر کا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی چکا دیتا ہے، جب وہ آخرت تک پہنچتا ہے تو کوئی نیکی نہیں ہوتی کہ اسے بدلہ دیا جائے۔

وضاحت:
فوائد: … (۱) اس فصل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر انتہائی مہربان ہے وہ اپنے بعض مومن بندوں پر تو اس قدر مہربان ہوگا کہ انہیں اپنے قریب کر کے سرگوشی کے انداز میں ان سے کلام کرے گا۔ اور یاد دلائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھا۔ میں آج تمہارے گناہوں کو معاف کر تا ہوں۔ اور اسے جنت میں بھیج دیا جائے گا۔
(۲) اس فصل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دورانِ طواف باتیں کرنا منع نہیں۔ حسب ضرورت کسی سے بات کی جاسکتی ہے۔ اور اہل علم سے مسائل بھی دریافت کیے جا سکتے ہیں۔
(۳) اس فصل سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور عقیدہ ٔ توحید کی عظمت بھی واضح ہوئی کہ ایک گناہ گار کے بڑے بڑے ننانوے دفتر گناہوں سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی ایک نیکی بھی ہوگی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کا اعتراف کیا ہوگا تو اسی کی برکت سے اس کی نجات ہوجائے گی۔
(۴) نیز معلوم ہوا کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھے اللہ تعالیٰ بھی اسے مایوس نہیں کرتا۔
(۵) نیز معلوم ہوا کہ جنت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اس دنیا میںانسان کے لیے اندازہ کرنا ناممکن ہے۔ سب سے آخر میں جنت میں جانے والا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر کہے گا کہ اگر میں تمام اہل ِ جنت کی دعوت کروں تب بھی یہ نعمتیں ختم نہیں ہوں گی۔
(۶) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اہل توحید سے اس قدر خوش ہوگا کہ ان کے ہر ہر گناہ کے عوض انہیں نیکیاں دے گا۔
(۷) نیز معلوم ہوا کہ مومن کی ایک بھی نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔ اسے دنیا میں بھی اس کا اجر ملتا ہے۔ اور آخرت میں بھی ثواب ملے گا۔ ان شاء اللہ۔
(۸) البتہ کفار کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ انہیں آخرت میں کوئی اچھا بدلہ نہیں ملے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13175
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2808 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12262»