الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
عَدْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقَضَاءِ وَرَحْمَةُ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ وَسَتْرُهُ وَفَضِيحَةُ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَخِزْيُهُ باب: فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
وَعَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ قَالَ فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ وَيُخْبَأُ عَنْهُ كِبَارُهَا فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا وَهُوَ مُقِرٌّ لَا يُنْكِرُ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنَ الْكِبَارِ فَيُقَالُ أَعْطُوهُ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً قَالَ فَيَقُولُ إِنَّ لِي ذُنُوبًا مَا أَرَاهَا“ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُسیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، کہا جائے گا کہ اس کے چھوٹے گناہ اس پر پیش کرو، پس اس کے صغیرہ گناہ اس پر پیش کیے جائیں گے اور بڑے بڑے گناہوں کو اس سے اوجھل رکھا جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا؟ وہ ان گناہوں کا اعتراف کرتا جائے گا اور انکار نہیں کرے گا، جبکہ وہ اپنے بڑے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہا جائے گا کہ اسے ہر گناہ کے عوض ایک ایک نیکی دے دو، تب وہ بولے گا اور کہے گا: میں نے تو ایسے گناہ بھی کیے تھے، جو یہاں مجھے نظر نہیں آ رہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں بھی نمایاں ہوگئیں۔