الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
عَدْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقَضَاءِ وَرَحْمَةُ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ وَسَتْرُهُ وَفَضِيحَةُ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَخِزْيُهُ باب: فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَفَرَغَ اللَّهُ مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ فَيَبْقَى رَجُلَانِ فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ اسْمُهُ رُدُّوهُ فَيَرُدُّوهُ فَيَقُولُ لَهُ لِمَ الْتَفَتَّ يَعْنِي فَيَقُولُ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ فَيَقُولُ لَقَدْ أَعْطَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى لَوْ أَنِّي أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي شَيْئًا“ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِسیدنا فضالہ بن عبید اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں سے فارغ ہو گا، تو اُدھر دو آدمی بچے ہوئے ہوں گے۔پھر ا نہیں جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، ان میں سے ایک آدمی مڑ مڑ کر دیکھے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اسے واپس لاؤ، فرشتے اسے واپس لے آئیں گے،اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تو پیچھے مڑ مڑ کر کیوں دیکھ رہا تھا؟ وہ کہے گا: مجھے تو یہ امید تھی کہ تو مجھے جنت میں داخل کرے گا۔ پھر اسے جنت میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، وہ جنت میں جا کر کہے گا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قدر نعمتیں دی ہیں کہ اگر میں تمام اہل ِ جنت کو بھی کھانا کھلاؤں تو میری نعمتوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب یہ واقعہ بیان فرماتے تو آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیتے۔