الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
عَدْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقَضَاءِ وَرَحْمَةُ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ وَسَتْرُهُ وَفَضِيحَةُ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَخِزْيُهُ باب: فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13171
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَكُونَ فِيمَا يُسْأَلُ عَنْهُ أَنْ يُقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُنْكِرَ الْمُنْكَرَ إِذَا رَأَيْتَهُ قَالَ فَمَنْ لَقَّنَهُ اللَّهُ حُجَّتَهُ قَالَ رَبِّ رَجَوْتُكَ وَخِفْتُ النَّاسَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم میں سے ایک آدمی سے مختلف سوالات کیے جائیں گے، یہاں تک کہ اس پوچھ گچھ کے دوران اس سے یہ بھی پوچھا جائے گا: جب تو نے دنیا میں گناہ کو دیکھا تھا تو نے اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ تو جس بندے کو اللہ تعالیٰ جواب سمجھا دے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تیری رحمت کی امید تھی اور میں لوگوں سے ڈر گیا تھا۔