حدیث نمبر: 13169
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ بَيْنَمَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ عَرَضَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ ”وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ“ قَالَ سَعِيدٌ وَقَالَ قَتَادَةُ فَلَمْ يَخْزَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ فَخَفِيَ خِزْيُهُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) صفوان بن محرز کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ ایک آدمی نے ان کے سامنے آکر کہا: اے ابو عبدالرحمن ! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان سرگوشی کے متعلق کیسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: پھر گزشتہ حدیث کی مانند ہی بیان کیا، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: رہا مسئلہ کافروں اور منافقوں کا تو تمام لوگوں کے سامنے ان کے بارے میں کہا جائے گا:یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ باندھے ، خبردار! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ قتادہ نے کہا: اس دن جس آدمی کی رسوائی ہو گئی، تو اس کی یہ رسوائی کسی سے بھی مخفی نہیں رہے گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13169
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5825»