الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
عَدْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقَضَاءِ وَرَحْمَةُ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ وَسَتْرُهُ وَفَضِيحَةُ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَخِزْيُهُ باب: فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ بَيْنَمَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ عَرَضَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ ”وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ“ قَالَ سَعِيدٌ وَقَالَ قَتَادَةُ فَلَمْ يَخْزَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ فَخَفِيَ خِزْيُهُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ۔ (دوسری سند) صفوان بن محرز کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ ایک آدمی نے ان کے سامنے آکر کہا: اے ابو عبدالرحمن ! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان سرگوشی کے متعلق کیسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: پھر گزشتہ حدیث کی مانند ہی بیان کیا، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: رہا مسئلہ کافروں اور منافقوں کا تو تمام لوگوں کے سامنے ان کے بارے میں کہا جائے گا:یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ باندھے ، خبردار! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ قتادہ نے کہا: اس دن جس آدمی کی رسوائی ہو گئی، تو اس کی یہ رسوائی کسی سے بھی مخفی نہیں رہے گی۔