الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
عَدْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقَضَاءِ وَرَحْمَةُ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ وَسَتْرُهُ وَفَضِيحَةُ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَخِزْيُهُ باب: فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَةُ قَالَ عَفَّانُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ فَقَالَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ وَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ وَيَقُولُ لَهُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ قَالَ فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ثُمَّ يُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ {فَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ}“ [هود: 18]صفوان بن محرز کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، اسی اثنا میں ایک آدمی نے ان کے سامنے آکر کہا: اللہ تعالیٰ کا قیامت والے دن اپنے بندے سے سرگوشی کرنا، اس بارے میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا بیان کرتے ہوئے سنا؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب کرے گا، اس پر اپنا بازو رکھے گا اور اسے لوگوں سے اوجھل کر کے اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا اور کہے گا: کیا تجھے فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ کا بھی علم ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ کا بھی پتہ ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے تمام گناہوں کا اعتراف کرا لے گا اور اس آدمی کو دل سے یقین ہوجائے گا کہ وہ ہلاک ہونے والا ہے، پھراللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا اور آج میں ان تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں، اس کے بعد اسے نیکیوں کا اعمال نامہ تھما دیا جائے گا، رہا مسئلہ کافروں اور منافقوں کا تو ان کے بارے میں گواہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو دنیا میں اپنے ربّ پر جھو ٹ باندھتے رہے، خبردار ! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے۔