الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَةِ الظَّالِمِ إِلَى أهْلِهَا باب: قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 13165
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) فَذَكَرَ مَعْنَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَاتَيْنِ تَنْتَطِحَانِ فَقَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي فِيمَا تَنْتَطِحَانِ“ قَالَ لَا قَالَ ”لَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي وَسَيَقْضِي بَيْنَهُمَا“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بکریوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسری کو ٹکریں مار رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوذر ! تم جانتے ہو یہ کیوں ایک دوسری کو ٹکر مار رہی ہیں؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن اللہ جانتا ہے اور وہ عنقریب ان کے درمیان فیصلہ بھی کرے گا۔