حدیث نمبر: 13164
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا وَشَاتَانِ تَقْتَرِنَانِ فَنَطَحَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى فَأَجْهَضَتْهَا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”عَجِبْتُ لَهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُقَادَنَّ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو بکریاں آپس میں لڑنے لگیں اور ایک نے دوسری کو سینگ مارا اور اسے دور بھگا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ منظر یہ دیکھ کر مسکرا پڑے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بکری پر تعجب ہو رہا ہے، اس ذا ت کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت کے دن اس مظلوم بکری کو اس ظالم بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13164
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه البزار: 4032، والطيالسي: 480 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21843»