الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَةِ الظَّالِمِ إِلَى أهْلِهَا باب: قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا وَشَاتَانِ تَقْتَرِنَانِ فَنَطَحَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى فَأَجْهَضَتْهَا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”عَجِبْتُ لَهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُقَادَنَّ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو بکریاں آپس میں لڑنے لگیں اور ایک نے دوسری کو سینگ مارا اور اسے دور بھگا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ منظر یہ دیکھ کر مسکرا پڑے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بکری پر تعجب ہو رہا ہے، اس ذا ت کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت کے دن اس مظلوم بکری کو اس ظالم بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔