حدیث نمبر: 13159
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا} قَالَ ”أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا أَنْ تَقُولَ عَمِلْتَ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فَهُوَ أَخْبَارُهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت {یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا} کی تلاوت کی اور پھر پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی اخبار سے کیا مراد ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ ہر مرد اور عورت نے زمین کے اوپر جو کچھ کیا ہو گا، زمین اس کے بارے میں گواہی دیتے ہوئے کہے گی کہ تو نے فلاں دن میرے اوپر فلاں فلاں عمل کیا تھا، اس کی اخبار سے یہی چیز مراد ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13159
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، يحيي بن ابي سليمان، قال البخاري: منكر الحديث، أخرجه الترمذي: 2429، 3353 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8854»