الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
شِدَّةُ الْحِسَابِ وَنَدْمُ الْمُؤْمِنِ عَلَى عَدَمِ الْازْدِيَادِ مِنَ الْخَيْرِ وَتَانِيْبُ الْكَافِرِ باب: محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدٌ فَيُغْفَرَ لَهُ يَرَى الْمُسْلِمُ عَمَلَهُ فِي قَبْرِهِ وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ} {فَيُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ}“ [سورة الرحمن: 39، 41]سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے راویت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جس آدمی کا تفصیل سے حساب لیا گیا، اس کی مغفرت نہیں ہوسکے گی، مسلمان اپنی قبر میں اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَیَوْمَئِذٍ لّاَ یُسْاَلُ عَنْ ذَنْبِہِ اِِنسٌ وَلاَ جَآنٌّ } {اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور نہ کسی جن سے۔) (سورۂ رحمن: ۳۹)نیز فرمایا: {یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیمَاہُمْ} (گنہگاروں کو ان کی علامتوں سے ہی پہچان لیا جائے گا۔ (سورۂ رحمن: ۴۱)