حدیث نمبر: 13156
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ ”اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا“ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ قَالَ ”أَنْ يَنْظُرَ فِي كِتَابِهِ فَيَتَجَاوَزَ عَنْهُ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ الرَّجُلُ تُعْرَضُ عَلَيْهِ ذُنُوبُهُ ثُمَّ يُتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا إِنَّ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَةُ هَلَكَ وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةَ تَشُوكُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَسِیْرًا۔ (اے اللہ! میراحساب آسان لینا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کا نامہ اعمال دیکھے اور درگزر فرمائے (ایک روایت کے مطابق) بندے پر اس کے گناہ پیش کیے جائیں اور پھر ان کو فوراً معاف بھی کر دیا جائے، اے عائشہ! قیامت کے دن جس آدمی سے تفصیلی حساب لیا گیا، وہ تو ہلاک ہو جائے گا، اور (یہ بھی یاد رکھو کہ) مومن کو جوبھی تکلیف یا پریشانی لاحق ہوتی ہے، یہاں تک کہ جب اسے کوئی کانٹا چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13156
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ فِيْ بَعْضِ صَلاَتِهٖ: ((اَللّٰهُمَّ حَاسِبْنِيْ حِسَابًا يَسِيْرًا۔))، فھذه زيادة تفرد بھا محمد بن اسحاق، وقد قال الذھبي في الميزان : وما تفرد به فيه نكارة أخرجه الحاكم: 1/ 57، وابن خزيمة: 7372، والطبران في الاوسط : 3662 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24719»