الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
شِدَّةُ الْحِسَابِ وَنَدْمُ الْمُؤْمِنِ عَلَى عَدَمِ الْازْدِيَادِ مِنَ الْخَيْرِ وَتَانِيْبُ الْكَافِرِ باب: محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
حدیث نمبر: 13154
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَوْ أَنَّ رَجُلًا يُجَرُّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرَمًا فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی اپنے یوم پیدائش سے بوڑھا ہو کر مرنے تک ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضامندی میں چہرے کے بل گھسیٹا جاتا رہے تو وہ اس عمل کو بھی قیامت کے دن معمولی اور کم تر سمجھے گا۔