الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
شِدَّةُ الْحِسَابِ وَنَدْمُ الْمُؤْمِنِ عَلَى عَدَمِ الْازْدِيَادِ مِنَ الْخَيْرِ وَتَانِيْبُ الْكَافِرِ باب: محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
حدیث نمبر: 13153
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ عَبْدًا خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى أَنْ يَمُوتَ هَرَمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَحَقَّرَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلَوَدَّ أَنَّهُ يُرَدُّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا محمد بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ صحابی ٔ رسول تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اگر کوئی آدمی اپنے یوم پیدائش سے لے کر بوڑھا ہو کر مرنے تک ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں چہرے کے بل پڑا رہے، تب بھی وہ قیامت کے دن اس اطاعت کو کم تر سمجھتے ہوئے تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تاکہ وہ مزید نیکیاں کر کے زیادہ اجر و ثواب حاصل کر سکے۔