الفتح الربانی
أبواب تتعلق بحوض الكوثر— حوض کوثر سے متعلقہ ابواب
شرَةٌ مَنْ يَرِدُ الْحَوْضَ وَصِفَةُ بَعْضِهِمْ مَعَ صِفَةِ الْحَوْضِ باب: حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
وَعَنِ الْمُخَارِقِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ وَعَمَّانَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ أَكْوَابُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا أَوَّلُ النَّاسِ عَلَيْهِ وُرُودًا صَعَالِيكُ الْمُهَاجِرِينَ“ قَالَ قَائِلٌ وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ الشَّحِيحَةُ وُجُوهُهُمْ الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ لَا يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ وَلَا يُنْكَحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ وَلَا يَأْخُذُونَ الَّذِي لَهُمْ“سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض اتنا وسیع ہے، جتنی کہ عدن اورعمان کے درمیان مسافت ہے اور اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ شیریں اور کستوری سے زیادہ خوشبو والا ہے، اس کے آبخوروں کی تعداد ستاروں کے برابر ہوگی، جس نے ایک دفعہ اس سے پانی پی لیا، اسے دوبارہ کبھی بھی پیاس محسوس نہیں ہو گی، وہ پانی پینے کے لیے سب سے پہلے فقیر مہاجرین آئیں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے سر پراگندہ ہوتے ہیں، چہرے مرجھائے ہوتے ہیں، لباس میلے کچیلے ہوتے ہیں، جن کے آنے پر دروازے نہیں کھولے جاتے اور جن کے نکاح آسودہ حال خواتین سے نہیں کیے جاتے، جنھوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں ادا کرنا ہوتی ہیں اور وہ اپنے حقوق اس طرح حاصل نہیں کر سکتے۔