الفتح الربانی
أبواب تتعلق بحوض الكوثر— حوض کوثر سے متعلقہ ابواب
صِفَةُ الْحَوْضِ وَمَا جَاءَ فِيهِ باب: حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى صَنْعَاءَ عَرْضُهُ كَطُولِهِ فِيهِ مِيزَابَانِ يَنْثَعِبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ مِنْ وَرِقٍ وَالْآخَرُ مِنْ ذَهَبٍ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ“سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخرت میں میرا ایک حوض ہوگا، اس کی وسعت اس قد رہوگی جیسے ایلہ سے صنعاء تک کی مسافت ہے، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جتنی ہو گی، اس میں جنت سے آنے والے پانی کے دو پرنالے گر رہے ہوں گے، ایک پرنالہ چاندی کا ہوگا اور دوسرا سونے کا، اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں، برف سے زیادہ ٹھنڈا، دودھ سے زیادہ سفید ہوگا، جس نے اس سے ایک دفعہ پی لیا وہ جنت میں جانے تک پیاس محسوس نہیں کرے گا، اس کے آبخوروں کی تعداد آسمان کے تاروں جتنی ہوگی۔