الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
شَفَاعَةُ بَعْض صَالِحِى الأمةِ الْمُحَمَّدِيَّة لِصَالِحِيهَا باب: امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”قَدْ أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ عَطِيَّةً فَكُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَهَا وَإِنِّي أَخَّرْتُ عَطِيَّتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي يَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْعَصَبَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلثَّلَاثَةِ وَلِلرَّجُلَيْنِ وَلِلرَّجُلِ“سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک دعا بطورِ عطیہ دی گئی اور ہر نبی نے دنیا میں ہی جلدی جلدی وہ قبول کروا لی، لیکن میں نے اپنے عطیہ کو آخرت میں اپنی امت کے حق میں شفاعت کے لیے مؤخر کر رکھا ہے،جبکہ میری تو امت کا یہ حال ہو گا کہ اس کا ایک آدمی لوگوں کی بڑی بڑی جماعتوں کے حق میں شفاعت کرے گا اور وہ اس کے نتیجے میں جنت میں داخل ہو جائیں گے اور ایک آدمی ایک قبیلہ کے حق میں، ایک آدمی ایک گروہ کے حق میں، ایک آدمی تین افراد کے حق میں، ایک آدمی دو بندوں کے حق میں اور ایک آدمی ایک فرد کے حق میں شفاعت کرے گا۔