الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
شَفَاعَةُ بَعْض صَالِحِى الأمةِ الْمُحَمَّدِيَّة لِصَالِحِيهَا باب: امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13119
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ“ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ مَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ فَقَالَ ”إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُولُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی، جو نبی بھی نہیں ہوگا، کی سفارش کی وجہ سے ربیعہ اور مضر دونوں یا ان میں سے ایک قبیلے کے افراد جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا ربیعہ بھی مضر میں سے نہیں ہیں؟ فرمایا: میں نے جو بات کہہ دی، سو کہہ دی۔