الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
شَفَاعَةُ بَعْض صَالِحِى الأمةِ الْمُحَمَّدِيَّة لِصَالِحِيهَا باب: امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَدْعَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ“ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَاكَ قَالَ ”سِوَايَ سِوَايَ“ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا سَمِعْتُهُسیدنا عبد اللہ بن ابی جد عاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت کی وجہ سے قبیلہ ٔ بنو تمیم کے افراد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی آپ کے علاوہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے علاوہ ہو گا، میرے علاوہ۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے کہا کہ تو نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنا ہے۔