الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
طَلْبُ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَفَاعَتَهُ لَهُمْ وَشَفَاعَتُهُ ﷺ لِكُلِّ مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا باب: بعض صحابہ کا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
حدیث نمبر: 13117
وَعَنِ ابْنِ دَارَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ أَنَا لَبِالْبَقِيعِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ سَمِعْنَاهُ يَقُولُ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَتَدَاكَّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالُوا إِيِّهِ يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَقِيَكَ يُؤْمِنُ بِي وَلَا يُشْرِكُ بِكَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے عثمان ابن دارہ کہتے ہیں: میں بقیع مقام پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ہم نے انہیں یوں کہتے ہوئے سنا: قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش کے بارے میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، یہ سن کر لوگ ان کے ارد گرد جمع ہوگئے اور کہنے لگے: کچھ اور کہو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، (اس کی تفصیل بیان کر دو)۔انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمائیں گے: اے اللہ ہر اس مسلمان بندے کو بخش دے جو مجھ پر ایمان رکھتا تھا اور تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔