حدیث نمبر: 13113
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ فَقُمْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ أَرَهُ فِي مَنَامِهِ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدَثَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا أَنَا بِمُعَاذٍ قَدْ لَقِيَ الَّذِي لَقِيتُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَقَالَ ”أَنْتُمْ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فِي شَفَاعَتِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دیا کرتے تھے، میں ایک رات کو اٹھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آرام گاہ میں نہیں دیکھا، مجھے تو اگلے پچھلے تمام اندیشوں نے آگھیرا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلا، اس دوران سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، ان کو بھی وہی پریشانی لاحق تھی، جو مجھے ہوئی تھی، … اس کے بعد گزشتہ حدیث کی مانند ہی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اور ہر وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہوگا، کے حق میں میری شفاعت ہو گی۔

وضاحت:
فوائد: … یہ صحابۂ کرام کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت تھی۔
اس حدیث میں صرف ایک دفعہ اختیار دینے کا ذکر ہے اور وہ نصف امت کے جنت میں داخلہ اور شفاعت کے درمیان ہے۔ (مسند محقق: ۳۲/ ۳۹۴)۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13113
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الصغير : 784 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19847»