الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
طَلْبُ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَفَاعَتَهُ لَهُمْ وَشَفَاعَتُهُ ﷺ لِكُلِّ مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا باب: بعض صحابہ کا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ فَقُمْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ أَرَهُ فِي مَنَامِهِ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدَثَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا أَنَا بِمُعَاذٍ قَدْ لَقِيَ الَّذِي لَقِيتُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَقَالَ ”أَنْتُمْ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فِي شَفَاعَتِي“۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دیا کرتے تھے، میں ایک رات کو اٹھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آرام گاہ میں نہیں دیکھا، مجھے تو اگلے پچھلے تمام اندیشوں نے آگھیرا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلا، اس دوران سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، ان کو بھی وہی پریشانی لاحق تھی، جو مجھے ہوئی تھی، … اس کے بعد گزشتہ حدیث کی مانند ہی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اور ہر وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہوگا، کے حق میں میری شفاعت ہو گی۔
اس حدیث میں صرف ایک دفعہ اختیار دینے کا ذکر ہے اور وہ نصف امت کے جنت میں داخلہ اور شفاعت کے درمیان ہے۔ (مسند محقق: ۳۲/ ۳۹۴)۔ (عبداللہ رفیق)