الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
شَفَاعَةُ الْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمُؤْمِنِينَ وَفِيهِ تَتَجَلَّى رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى بِعِبَادِهِ الْمَوَحَدِينَ باب: فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
حدیث نمبر: 13110
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَيَتَمَجَّدَنَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُنَاسٍ مَا عَمِلُوا مِنْ خَيْرٍ قَطُّ فَيُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا احْتَرَقُوا فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ بَعْدَ شَفَاعَةِ مَنْ يَشْفَعُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے لیے بہت زیادہ قابل تعظیم اس طرح ٹھہریں گے کہ ان لوگوں نے کبھی بھی کوئی نیکی نہیں کی ہوگی، لیکن وہ سفارش کرنے والوں کی سفارش کے بعد اپنی رحمت سے ان کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گا، جبکہ وہ وہاں جل چکے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ان سے مراد وہ لوگ ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی میں توحید ورسالت کا اقرار تو کیا ہو گا، لیکن اس عمل کے علاوہ ان کے پاس کوئی نیکی نہیں ہو گی۔