الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
وفِيهِ أَيْضًا شَفَاعَةُ الصِّدِيقِينَ وَالْأَنْبِيَاءِ وَالشُّهَدَاءِ شَفَاعَتُهُ ﷺ لِفَرِيقِ مِّنْ أُمَّتِهِ اسْتَحَقُوا الْعَذَابَ قَبْلَ دُخُولِهِمُ النَّارَ وَاخْرَاجُ فَرِيْقٍ مِنْهَا بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَهُمُ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمُ الْجَهَنَّمِيُّونَ باب: امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
حدیث نمبر: 13107
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مُنْتِنِينَ قَدْ مَحَشَتْهُمُ النَّارُ بِشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيُّونَ قَالَ حَجَّاجٌ: الْجَهَنَّمِيِّينَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفارش کرنے والوں کی سفارش کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ایک گروہ کو جہنم سے نکالے گا، جو سڑچکے ہوں گے اور آگ نے انہیں جلا کر سیاہ کر دیا ہوگا، پھر ان کو جنت میں داخل کر دے گا، ان کو جہنمی کا نام دیا جائے گا۔ راویٔ حدیث حجاج نے جہنمیوں کی بجائے لفظ جہنمیین کہا ہے۔