الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
وفِيهِ أَيْضًا شَفَاعَةُ الصِّدِيقِينَ وَالْأَنْبِيَاءِ وَالشُّهَدَاءِ شَفَاعَتُهُ ﷺ لِفَرِيقِ مِّنْ أُمَّتِهِ اسْتَحَقُوا الْعَذَابَ قَبْلَ دُخُولِهِمُ النَّارَ وَاخْرَاجُ فَرِيْقٍ مِنْهَا بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَهُمُ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمُ الْجَهَنَّمِيُّونَ باب: امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
حدیث نمبر: 13106
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ قَوْمٌ شَفَاعَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کی وجہ سے جہنم سے ایک قوم کو نکالا جائے گا، ان کو جہنمی کے نام سے پکارا جائے گا۔