حدیث نمبر: 13103
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ عَلَى الصِّرَاطِ إِذْ جَاءَنِي عِيسَى فَقَالَ هَذِهِ الْأَنْبِيَاءُ قَدْ جَاءَتْكَ يَا مُحَمَّدُ يَسْأَلُونَ أَوْ قَالَ يَجْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُفَرِّقَ جَمْعَ الْأُمَمِ إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ اللَّهُ لِغَمٍّ مَا هُمْ فِيهِ وَالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزُّكْمَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ“ قَالَ قَالَ لِعِيسَى ”انْتَظِرْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ“ قَالَ ”فَذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَلَقِيَ مَا لَمْ يَلْقَ مَلَكٌ مُصْطَفًى وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جِبْرِيلَ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ لَهُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ“ قَالَ ”فَشُفِّعْتُ فِي أُمَّتِي أَنْ أَخْرِجَ مِنْ كُلِّ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا وَاحِدًا“ قَالَ ”فَمَا زِلْتُ أَتَرَدَّدُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَلَا أَقُومُ مَقَامًا إِلَّا شُفِّعْتُ حَتَّى أَعْطَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَنْ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ شَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت پل صراط کو عبور کر رہی ہوگی اور میں ان کے انتظار میں کھڑا ہوں گا کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے پاس آکر کہیں گے: اے محمد! یہ تمام انبیاء آپ کی خاطر جمع ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کر رہے ہیں کہ تمام امتیں جس غم میں مبتلا ہیں، وہ انہیں اس سے نکال کر ان کا حساب کتاب شروع کرے اور جدھر چاہے ان کو بھیج دے، جبکہ سب لوگوں کو منہوں تک پسینہ آ رہا ہو گا، اہل ایمان کی تکلیف تو زکام کی سی ہوگی اور کافروں پر تو موت کی کیفیت طاری ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائیں گے: آپ انتظار کریں، میں آپ کے پاس واپس آتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کا ایسا ذکر کریں گے، جو کسی مقرب فرشتے یا بھیجے ہوئے نبی کو نصیب نہیں ہوا ہو گا، اُدھر اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا کہ تم جا کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہو:اپنا سر اٹھاؤ اور مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش مقبول ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے حق میں اتنی سفارش قبول کی جائے گی کہ آپ ہر ننانوے میں سے ایک آدمی کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار اللہ تعالیٰ کے ہاں جاتے رہیں گے اور ہر دفعہ آپ کی سفارش قبول کی جاتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یہ کہے گا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت میں جتنے افراد پیدا کیے، ان میں سے جس جس نے اخلاص کے ساتھ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دی اور اسی پر فوت ہوا تو اسے جنت میں داخل کر لو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13103
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله رجال الصحيح، وفي متن ھذا الحديث غرابة، أخرجه ابن خزيمة في التوحيد : 2/ 616 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12855»