الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي حُكْمِ الْإِقْرَارِ بِالشَّهَادَتَيْنِ وَ أَنَّهُمَا تَعْصِمَانِ قَائِلَهُمَا مِنَ الْقَتْلِ وَ بِهِمَا يَكُونُ مُسْلِمًا وَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ باب: دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عِتْبَانَ اشْتَكَى عَيْنُهُ فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا أَصَابَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَعَالَ صَلِّ فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مَا يَلْقَوْنَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَأَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخَيْشِمٍ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟)) فَقَالَ قَائِلٌ: بَلَى وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَنْ تَطْعَمَهُ النَّارُ، أَوْ قَالَ: لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ))سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ کی آنکھ میں تکلیف ہو گئی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لاحق ہونے والی تکلیف کا پیغام بھیجا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ تشریف لائیں، میرے گھر میں ایک مقام پر نماز پڑھیں، تاکہ میں اس کو جائے نماز بنا سکوں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق چند صحابہ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور صحابہ گفتگو میں مصروف ہو گئے، پھر وہ منافقوں کی طرف سے ہونے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے اور اس کا بڑا سبب مالک بن دخشم کو قرار دیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ایک آدمی نے جواب دیا: ”جی کیوں نہیں، وہ یہ گواہی تو دیتا ہے، لیکن اس کے دل میں اس کے مطابق عقیدہ نہیں ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے نے یہ شہادت دی کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اس کا رسول ہوں، تو ہرگز آگ اس کو نہیں کھائے گی یا (فرمایا) وہ ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا۔“