حدیث نمبر: 13095
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ أَوْ يَدْخُلُ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى، أَتَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ؟ لَا، وَلَكِنَّهَا لِلْمُتَلَوِّثِينَ الْخَطَّاءِ“، قَالَ زِيَادٌ: أَمَا إِنَّهَا لَحْنٌ، وَلَكِنْ هَكَذَا حَدَّثَنَا الَّذِي حَدَّثَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اِن دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا، یا تو میں سفارش کرلوں یا پھر میری نصف امت جنت میں چلی جائے، میں نے سفارش کو اختیار کیا، کیونکہ اس میں زیادہ وسعت اور عموم ہے اور یہ زیادہ لوگوں کو کفایت کرنے والی ہے۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میری یہ سفارش متقی لوگوں کے لیے ہے؟ نہیں نہیں، یہ تو گناہوں میں ملوّث ہو جانے والوں کے لیے ہے، جو خطا کار ہوتے ہیں۔ زیاد نے کہا: اس متن میں الْخَطَّاؤُوْنَ پڑھنا خطا ہے، بہرحال ہمیں بیان کرنے والوں نے ایسے ہی بیان کیا۔

وضاحت:
فوائد: … متن کے الفاظ الْخَطَّاؤُوْنَ‘مبتدا محذوف ھُمْ کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو سکتے ہیں، اس لیے زیاد راوی کی بات درست نہیں ہے، یہ بات علیحدہ ہے کہ اگر الْخَطَّاؤُوْنَ کو اَلْمُتَلَوِّثِیْنَ کی صفت یا بدل بنایا جائے تو نحوی قواعد کی روشنی میں اسے الْخَطَّائِیْنَ پڑھا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13095
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام راويه عن ابن عمر، ولجھالة علي بن النعمان بن قراد ، ولاضطرابه، أخرجه ابن ماجه: 4311 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5452»