الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
حِرْصُهٌ ﷺ عَلَى الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کا حریص ہونا
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ أَوْ يَدْخُلُ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى، أَتَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ؟ لَا، وَلَكِنَّهَا لِلْمُتَلَوِّثِينَ الْخَطَّاءِ“، قَالَ زِيَادٌ: أَمَا إِنَّهَا لَحْنٌ، وَلَكِنْ هَكَذَا حَدَّثَنَا الَّذِي حَدَّثَنَاسیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اِن دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا، یا تو میں سفارش کرلوں یا پھر میری نصف امت جنت میں چلی جائے، میں نے سفارش کو اختیار کیا، کیونکہ اس میں زیادہ وسعت اور عموم ہے اور یہ زیادہ لوگوں کو کفایت کرنے والی ہے۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میری یہ سفارش متقی لوگوں کے لیے ہے؟ نہیں نہیں، یہ تو گناہوں میں ملوّث ہو جانے والوں کے لیے ہے، جو خطا کار ہوتے ہیں۔ زیاد نے کہا: اس متن میں الْخَطَّاؤُوْنَ پڑھنا خطا ہے، بہرحال ہمیں بیان کرنے والوں نے ایسے ہی بیان کیا۔