حدیث نمبر: 13094
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ: ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا يَهُمُّنِي مِنْ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا، يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ، وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ شفاعت کے بارے میں آپ کی درخواست پر آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی جان ہے! میرا خیال تھا کہ میری امت میں سے تم ہی اس کے بارے میں مجھ سے سب سے پہلے سوال کرو گے، کیونکہ میں نے تم کو علم پر حریص پایا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! میرے نزدیک جنت کے دروازوں پر لوگوں کے ہجوم کی بہ نسبت اپنی شفاعت کی تکمیل زیادہ اہم ہے اور میری یہ سفارش ہر اس آدمی کے حق میں ہو گی، جو اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کی شہادت اس طرح دیتا ہے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہے اور اس کی زبان اس کے دل کی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13094
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 1/ 69، وابن خزيمة: 2/ 698 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8056»