الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
حِرْصُهٌ ﷺ عَلَى الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کا حریص ہونا
حدیث نمبر: 13093
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: خَطَبَ بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي قَدِ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو نضرہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے منبر پر ہم سے خطاب کیا اورکہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک ایک قبول شدہ دعا کرنے کا اختیار دیا گیا، اور ہر ایک نے دنیا ہی میں وہ دعا کرلی، البتہ میں نے اپنی دعا کو امت کے حق میں سفارش کر نے کے لیے چھپا رکھا ہے۔