الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
حِرْصُهٌ ﷺ عَلَى الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کا حریص ہونا
حدیث نمبر: 13092
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”قَدْ أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ عَطِيَّةً، فَكُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَهَا، وَإِنِّي أَخَّرْتُ عَطِيَّتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر نبی کو ایک قبول شدہ دعا دی گئی ہے، ہر نبی نے اس کے معاملے میں جلدی کی (اور دنیا میں ہی اس کو وصول کر لیا ہے)، البتہ میں نے اپنی امت کے حق میں سفارش کرنے کے لیے اس کو مؤخر کر دیا ہے۔