الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
بعْتُ أَهْلِ النَّارِ وَعَلَامَاتُ بَعْضِهِمْ باب: جہنم والوں کی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
حدیث نمبر: 13090
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ الْكَافِرَ لَيَجُرُّ لِسَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَاءَهُ قَدْرَ فَرْسَخَيْنِ يَتَوَطَّأُهُ النَّاسُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافر کی زبان دو دو فر سخوں (یعنی چھ چھ میلوں) کے برابر لمبی ہو جائے گی اور کافر اسے اپنے پیچھے گھسیٹ رہا ہوگا اور لوگ اس کو روند رہے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ ثابت ہے کہ بعض نافرمانوں کے جہنم میں بڑے بڑے وجود بنا دیئے جائیں گے۔