الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
بعْتُ أَهْلِ النَّارِ وَعَلَامَاتُ بَعْضِهِمْ باب: جہنم والوں کی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُنَادِيًا يَنَادِي: يَا آدَمُ! إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَبْعَثَ بَعْثًا مِنْ ذُرِّيَّتِكَ إِلَى النَّارِ، فَيَقُولُ آدَمُ: يَا رَبِّ! وَمِنْ كَمْ؟ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ“، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: مَنْ هَذَا النَّاجِي مِنَّا بَعْدَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”هَلْ تَدْرُونَ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي صَدْرِ الْبَعِيرِ“سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک اعلان کرنے والے کو بھیجے گا، وہ یہ اعلان کرے گا: اے آدم! اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ تو اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ جہنم کی طرف بھیج دے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے رب ! کتنے لوگوں میں سے کتنے؟ ان سے کہا جائے گا: ہر سو میں سے ننانوے کو جہنم کی طرف بھیج دے۔ یہ سن کر ایک صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ نجات پانے والا کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس دن لوگوں میں تمہاری تعداد اس طرح ہوگی، جیسے اونٹ کے سینے پر تل کا نشان ہوتا ہے۔