حدیث نمبر: 13087
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُنَادِيًا يَنَادِي: يَا آدَمُ! إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَبْعَثَ بَعْثًا مِنْ ذُرِّيَّتِكَ إِلَى النَّارِ، فَيَقُولُ آدَمُ: يَا رَبِّ! وَمِنْ كَمْ؟ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ“، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: مَنْ هَذَا النَّاجِي مِنَّا بَعْدَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”هَلْ تَدْرُونَ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي صَدْرِ الْبَعِيرِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک اعلان کرنے والے کو بھیجے گا، وہ یہ اعلان کرے گا: اے آدم! اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ تو اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ جہنم کی طرف بھیج دے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے رب ! کتنے لوگوں میں سے کتنے؟ ان سے کہا جائے گا: ہر سو میں سے ننانوے کو جہنم کی طرف بھیج دے۔ یہ سن کر ایک صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ نجات پانے والا کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس دن لوگوں میں تمہاری تعداد اس طرح ہوگی، جیسے اونٹ کے سینے پر تل کا نشان ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … دونوں احادیث میں امت ِ مسلمہ کو پرامید رہنے کا مژدہ دیا گیا ہے، بہرحال زیادہ سے زیادہ توشۂ آخرت جمع کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم / حدیث: 13087
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي بنحوه مطولا: 5124 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3677»