حدیث نمبر: 13086
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا آدَمُ! قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، يَا رَبِّ! وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، قَالَ: فَحِينَئِذٍ يَشِيبُ الْمَوْلُودُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى، وَمَا هُمْ بِسُكَارَى، وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ“، قَالَ: فَيَقُولُ: فَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ“، قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ“، قَالَ: فَكَبَّرَ النَّاسُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم! اٹھ کر جہنم کا حصہ الگ کرو، وہ کہیں گے: اے میرے ربّ! میں حاضر ہوں، ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، جہنم کا حصہ کتنا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں نو سو ننانوے ۔ اس وقت (گھبراہٹ کا ایسا عالم طاری ہو گا کہ) بچے بوڑھے بن جائیں گے،ہر حاملہ اپنے حمل کو گرادے گی اور لوگ بے ہوش دکھائی دیں گے، حالانکہ وہ بے ہوش نہیں ہوں گے، درحقیقت اللہ تعالیٰ کا عذاب شدید اور سخت ہوگا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نجات پانے والا وہ ایک آدمی ہم میں سے کون ہوگا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (یاجوج ماجوج کی تعداداتنی زیادہ ہو گی کہ) نو سو ننانوے افراد ان سے ہوں گے اور تم میں سے ایک ہو گا۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ جنت میں ایک چوتھائی تعداد تمہاری ہو گی، اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ جنت میں ایک چوتھائی تعداد تمہاری ہوگی، اللہ کی قسم ! مجھے تو یہ امید ہے کہ جنت میں ایک تہائی تعداد تمہاری ہوگی، اللہ کی قسم! بلکہ مجھے تو یہ امید ہے کہ جنت میں نصف تعداد تمہاری ہوگی۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے خوشی سے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دوسرے لوگوں کے بہ نسبت تمہاری تعداد یوں ہو گی، جیسے سیاہ رنگ کے بیل کے جسم پر معمولی سفید بال ہوتے ہیں یا سفید رنگ کے بیل کے جسم پر سیاہ بال ہوتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … اس روایت سے معلوم ہوا کہ ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے، لیکن درج ذیل روایت میں ایک سو میں سے ننانوے کا ذکر ہے، پہلی روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہے، اس لیے اس کو راجح قرار دیں گے، لیکن جمع تطبیق کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ لوگوں کے مختلف گروہوں کے بارے میں نسبتیں بھی مختلف ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم / حدیث: 13086
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3348، 4741، ومسلم: 222 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11304»